Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Tuesday, April 3, 2012

ٹارگٹ کلنگ:عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں ہوا،چیف جسٹس

کوئٹہ… چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ صوبے میں پولیس جرائم کی روک تھام میں مکمل ناکام ہے، یہاں ہر کوئی انجوائے کررہا ہے لگتا ہے کسی کو صوبے کا کوئی درد نہیں جبکہ آئی جی پولیس کو تو صوبے میں امن و امان کی ایسی صورتحال پر نیند ہی نہیں آنا چاہئے تھی۔ کوئٹہ میں سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ بار کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست کی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک مفصل فیصلہ دیا تھا لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ آج ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے پولیس کی تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی، رپورٹ پر چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے ایڈووکیٹ جنرل اور وہاں موجود آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ رپورٹ میں ضلع اور تحصیل کے حساب سے مختلف واقعات میں مرنے والوں اور دیگر تفصیلات رپورٹ میں درج کیوں نہیں ہیں؟اس موقع پر انہوں نے آئی جی پولیس کو مخاطب کرکے کہا کہ آئی جی صاحب ،آپ کو تو اس صورتحال پر نیند ہی نہیں آنا چاہئے تھی، چیف جسٹس نے حال ہی میں اسپنی روڈ پرپیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے کہا کہ کارکردگی رپورٹ میں تو اس واقعہ کا ذکر نہیں ہے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس رپورٹ میں تو سب اچھا لکھا ہے، کیا جتنی لاشیں ملیں ان کے کتنے مقدمات درج کئے گئے، انہوں نے اس موقع پر یہ استفسار بھی کیا کہ رپورٹ میں پولیس کے زیرکنٹرول علاقوں کا تو بتایا ہے لیویز کا ریکارڈ کہاں ہے، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے یہ استفسار بھی کیا کہ صوبائی حکومت ان کی ذمہ داری ہے، صوبے میں حکومتی رٹ کہاں ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 2008سے اب تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 90فیصدکمی واقع ہوئی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ صوبے میں ایک فیصد بھی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہونی چاہئیے،سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ صوبے سے گذشتہ چند سالوں میں 204لاشیں برآمد ہوئیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ کیا اپ کو بتہ ہے کہ صوبے سے ملنے والی لاشوں سے کیا پیغام جارہا ہے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے میں باہر سے آنے والے لوگوں کو بسوں سے اتار کر بھی مارا جارہا ہے، اور اپ یہ بھی بتائیں کہ کہ صوبے سے حالات کے باعث کتنے اساتذہ نے ہجرت کی، ایک موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ ہم بلوچستان کے لوگ محب وطن ہیں۔اس موقع پر بنچ کے ایک اور رکن جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بلوچستان ہماری روح ہے، یہاں کے حالات پر پردہ ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا اسے حل کرنا ہے، ان نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی کارکردگی رپورٹ ہمارے سامنے رکھ دی کہ ہر چیز ہری ہے جبکہ یہاں پر حالات کی بہتری کے لئے مرضی ہی نہیں ہے،سماعت کے دوران درخواست کے مدعی اور سینئر وکیل ظہور احمد شاہوانی نے عدالت کو بتایا کہ اغواء برائے تاوان میں بعض وزراء ملوث بتائے جاتے ہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون سے بڑا کوئی نہیں، اس کی نشاندہی کرنے والے صوبائی وزیر کو پولیس کے پاس لے جانا چاہئے تھا، قانون سے بڑا کوئی نہیں، اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ سے تحریری طور پرپوچھا کہ کونسے وزراء اغواء برائے تاوان میں ملوث ہیں، پھر خود ہی کہا کہ انہوں نے اس لئے صوبائی وزیرداخلہ سے اس بارے میں نہیں پوچھا کہ وہ ان کا تبادلہ کردے گا، اس موقع پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ صوبائی وزیر داخلہ کا بعض صوبائی وزراء کے اغواء برائے تاوان میں ملوث ہونے کے حوالے سے دیا گیا بیان ریکارڈ پر لایا جائے

GEO TV

No comments:

Post a Comment