Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Thursday, April 12, 2012

پاکستانیوں کے گلے شکوے

ہارون رشید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: جمعرات 12 اپريل 2012

کبھی شدت پسندی کی وارداتیں تو کبھی قدرتی آفات کی گرفت
مسئلے مسائل تو ہر کسی کے ساتھ بندھے ہیں۔ یہ تو زندگی کا لازمی جز ہیں۔ ان کے بغیر زندگی بھی شاید بد مزہ معمول بن کر رہ جائے۔ تو پھر پاکستان میں بعض لوگ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر پر کیوں اتنا چیختے چلاتے ہیں؟ تو یہ چیخ و پکار بھی معمولات زندگی بن گئی ہے۔
ایسے میں مجھے شکایت گلگت، کرم اور کوئٹہ کی اہل تشیع آبادی سے بھی ہے۔ لیکن اپنے سے پہلے ان کی دو اہم شکایات دیکھ لیتے ہیں۔

شکایت نمبر ون: حکومت ان کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کر رہی؟

جواب: ایسے سنگین معاملات حکومت آپ اور مجھ پر چھوڑ دیتی ہے لہذا ’حکومت ندارد’ ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا۔ بجلی کے لیے جنریٹر، پانی کے لیے بورنگ اور روزانہ کا کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے گلی کے کونے کا انتظام خود کرنا پڑتا ہے تو پھر تحفظ کی ذمہ داری ان گنت مسائل میں گھری ناتواں حکومت پر کیوں ڈالی جائے؟ یہ آج کی بات تو نہیں کب سے سلسلہ چل رہا ہے ہاں اس میں البتہ تیزی اب یقینا آئی ہے۔

پھر پاکستان کی مجموعی آبادی کے تقریباً بیس فیصد طبقے کے لیے حکومت کیا خصوصی اقدامات کرے گی؟ وہ آپ سے کئی گنا کم ہندوؤں اور عیسائیوں کا تحفظ نہیں کرسکتی تو آپ کی آبادی تو ماشا اللہ تقریباً پندرہ بیس فیصد ہیں۔ پھر اتنے بکھرے ہوئے ہیں آپ پورے ملک میں کہ حکومت کی دو آنکھیں کہاں کہاں آپ پر نظر رکھیں۔

سیاچن جیسی قدرتی آفت سے ہر آنکھ آبدیدہ ہے

حکومت کے خاموش تماشائی بننے کے پیچھے بھی ایک چالاک حکمت کار فرما ہے۔ معاف کیجیے گا اس کا میرے سازشی دماغ کے مطابق مقصد ان کی آبادی کو شاید ’مینج ایبل’ سطح پر لانا ہے۔ شدت پسند تنظیموں نے بھی تو ہر جگے ہی جال پھیلائے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ ہو تو بات ہو۔ بےچارے رحمان ملک کراچی بھاگیں، کوئٹہ جائیں یا گلگت کا رخ کریں۔ نہ جانے کیوں ابھی تک قبائلی علاقوں کے لوگ ان سے محفوظ کیسے ہیں؟

شکایت نمبر دو: پاکستانی میڈیا توجہ نہیں دے رہا؟

جواب: پاکستان میں بےچارے نیوز چینلز ہیں ہی کتنے ہیں؟ دو تین درجن ہی تو ہیں۔ پھر اس مسائلستان میں مسائل کی کیا کوئی کمی ہے؟ بس ایک مسئلے کو سر سے پوری طرح پکڑ نہیں پاتے کہ دوسرا دُم دبا کر ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ بلوچستان کو چھوا نہیں کہ گلگت گرم ہوگیا، زرداری کا پیچھا چھوڑا نہیں کہ سیاچن جیسی قدرتی آفت سر پر آن پڑی۔

خبروں کی اس بھرمار میں ایک دشواری یہ بھی پیش آتی ہے کہ تھانے کے ایس ایچ او کا تبادلہ اہم ہے یا وینا ملک کا نیا چکر۔ پھر خبر جتنی بھی متوازن ہو یہودی یا پھر بھارتی ایجنٹ کا لیبل تو ہمیشہ تیار جیب میں پڑا رہتا ہے۔ ایسے میں صحافی غریب کرے تو کیا کرے۔

پاکستان میں بہتری شاید تبھی آئے گی جب فرقہ وارانہ حملوں کا الگ، خودکش حملوں کا الگ اور آنے ٹکے کے جرائم کا الگ چینل ہو۔ تب سب کو مناسب کوریج نہ ملنے کی شکایت نہیں رہے گی۔

حکومتی موقف:جس قسم کے حالات سے پاکستانی اب تک گزرے ہیں اگر قتل و غارت گری کے خلاف احتجاج نہ ہو، بجلی و گیس کی قلت کے ستائے بھی نہ ہوں تو پیپلز پارٹی کو شک ہے کہ وہ ویسے ہی سڑک پر نکلنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ ہی لیں گے۔ کسی اور کے خلاف نہیں تو حکمرانوں کے خلاف ہی دو چار نعرے لگا کر اندر کی بھڑاس نکالنے کی انہیں عادت سی ہوگئی ہے۔ بقول حکومت انہیں گھروں میں خاموش نہ بیٹھنے کی عادت سے ہوگئی ہے۔ یہی مسئلہ ہے ان کا؟

نوٹ: میرا طنز اپنی جگہ لیکن ان کی شکایت بھی دیگر پاکستانیوں کے گلے شکوے کی طرح وزن رکھتی ہیں۔ اس کالم کے شائع ہونے کے بعد دو چار غصہ بھری ای میلیں تو آ ہی جائیں گی۔

BBC URDU

No comments:

Post a Comment