Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Sunday, July 28, 2013

کوئٹہ: فائرنگ سے خودکش حملہ آور ہلاک


آخری وقت اشاعت: اتوار 28 جولائ 2013 ,‭ 03:04 GMT 08:04 PST


ہزارہ ٹاؤن کی آبادی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے جو کہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مبینہ خود کش حملہ آور کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ سینیچر کو کو ئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والے خود کش حملہ آور سے ایک دستی بم اور خود کش جیکٹ بھی بر آمد کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور 20 سے 22سالہ نوجوان تھا جس کی لاش کو شناخت کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کوئٹہ میر زبیر محمود نے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ خودکش حملہ آور ہزارہ ٹاؤن کے علاقے علی آباد میں افطاری کے وقت داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

مشکوک


پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں نے جب انھیں مشکوک جان کر روکنے کی لگے تو انھوں نے دستی بم لہراتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی’ لیکن مکینوں نے فائرنگ کرکے اسے موقع پر ہلاک کردیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں نے جب انھیں مشکوک جان کر روکنے کی لگے تو انھوں نے دستی بم لہراتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی’ لیکن مکینوں نے فائرنگ کرکے اسے موقع پر ہلاک کردیا‘۔

میر زبیر محمود نے کہا کہ حملہ آور علاقے میں خودکش دھماکا کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا تاہم علاقے میں موجود رضاکاروں نے پولیس کی مدد سے اس کا منصوبہ ناکام بنادیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرشہری چوکس رہیں اور پولیس کے ساتھ اسی طرح تعاون کرتے رہیں تو شدت پسندی کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ہزارہ ٹاؤن کی آبادی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے جو کہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس علاقے میں اس ماہ کے اوائل میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں 22 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل اس سال کے اوائل میں ایک واٹر ٹینکر کے ذریعے ایک بڑا خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سے نہ صرف ہزارہ ٹاؤن کے داخلی راستوں کی سیکورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے بلکہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی علاقے کی نگرانی پر مامور ہے۔

Saturday, July 27, 2013

کوئٹہ: ہزارہ ٹاؤن کے رہائشیوں نے خود کش بمبار کو ہلاک کر دیا


Saturday 27 July 2013



۔—فائل فوٹو

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک عرصے سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار علاقے ہزارہ ٹاؤن ایک بار پھر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس دفعہ شہریوں نے دہشت گردی کی کارروائی ناکام بناتے ہوئے مشتبہ خود کش بمبار کو ہلاک کر دیا۔

کوئٹہ میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے علاقے ہزارہ ٹاؤن کو آج پھر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، منصوبہ سازوں نے افطار کے وقت خود کش حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس بار ان کی سازش دھری رہ گئی۔

سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر محمود نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ افطار سے تھوڑی دیر قبل پیدل آنے والے ایک مشتبہ خود کش بمبار کو ہزارہ کالونی کے رہائشیوں نے ہلاک کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ مسجد کی حفاظت پر مامور علاقہ مکینوں نے مشتبہ بمبار کو مسجد کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن اس کے انکار پر رہائشیوں نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

میر زبیر نے بتایا کہ ہلاک بمبار سے ایک خود کش جیکٹ اور دستی بم برآمد ہوا ہے اور دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

ایک اور پولیس آفیشل ڈی آئی جی فیاض سنبل نے ہزارہ ٹاؤن میں ہلاک شخص کے خود کش حملہ آور ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشن فیاض سنبل نے بتایا کہ خود کش بمبار نے اپنے جسم پر خود کش جیکٹ باندھ رکھ تھی لیکن رضاکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث وہ اسے پھاڑنے میں ناکام ہو گیا۔

سنبل نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایک رضاکار نے بمبار کے سر پر اینٹ دے ماری جبکہ اس سے قبل کہ وہ سنبھلتا دوسرے رضاکار نے اس پر فائرنگ کر دی۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ حملہ آور کی لاش پوسٹ مارٹم کیلیے کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔

واقعے کے فوراً بعد ایف سی نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی تفتیش شروع کر دی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ہزارہ ٹاؤن میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں جہاں شدت پسند بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں اقلتی برادری کے سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔

پیر کو کوئٹہ کی شاہراہ اقبال پر ٹارگٹ لنگ کے واقعے میں ہزارہ برادری کے دو افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل 15 جولائی کو مسلح ملزمان نے مسجد روڈ پر اقلیتی برادری کے افراد کی گاڑی پر افطاری سے قبل فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔

اس طرز کا سب سے بدترین سانحہ رواں سال 16 فروری کو اس وقت پیش آیا تھا جب ایک واٹر ٹینکر میں بارودی مواد رکھ کر اسے مارکیٹ میں دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

کوئٹہ : ہزارہ ٹاوٴن میں مکینوں کی فائرنگ سے خود کش حملہ آور ہلاک


July 27, 2013 - Updated 200 PKT

کوئٹہ … کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاوٴن میں خود کش حملہ آور علاقہ مکینوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے جسم سے بم نصب تھا جو پھٹ نہیں سکا۔ کوئٹہ کے علاقہ ہزارہ ٹاوٴن میں علاقہ مکینوں کی فائرنگ سے خود کش حملہ آور ہلاک ہوگیا۔ ڈی آئی جی فیاض سنبل کا کہنا ہے کہ ہزارہ ٹاوٴن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص خود کش حملہ آور تھا، مشتبہ شخص کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور کے سر میں گولی لگنے سے اس کی ہلاکت ہوئی جبکہ اس کے جسم سے بندھا دھماکا خیز مواد پھٹ نہیں سکا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنادیا۔ 


Geo News

ALI HAIDER HAZARA FROM KARACHI AT BANO SAMMA KI AWAZ !


A Suicide Bomber is Killed in Hazara Town








Just in: A suicide bomber was killed before reaching his target in Hazara Town area of Quetta. Police is looking for a second suicide bomber who has escaped. At the beginning of this month, a suicide bomber killed 31 and injured more than 70 residents of Hazara Town.  

Monday, July 22, 2013

Gunmen kill two Shia Muslims in Quetta

By AFP
Published: July 22, 2013




Pakistani Shia Muslims carry the coffins of relatives during a mass burial ceremony in Quetta on February 20, 2013. PHOTO: AFP/FILE

QUETTA: Gunmen killed two people from Pakistan’s Shia community on Monday when they opened fire on a taxi in Quetta, which has been gripped by a wave of sectarian bloodshed, police said.

The attack took place at the busy Iqbal avenue in the southwestern city, the capital of Balochistan where the surge in sectarian unrest has killed scores of Shias.

“The driver and a passenger boarding the taxi, both were Shias. They died after unknown gunmen fired at their car,” said Fayyaz Sumbal, a senior police official in Quetta.

He said that the two attackers were waiting for the taxi to arrive at the busy avenue and escaped on a motorbike after spraying bullets at the vehicle.

There was no immediate claim of responsibility. Lashkar-e-Jhangvi, a militant group officially banned by the government in 2002, usually claims responsibility for attacks on Shia Muslims.

Elsewhere in Balochistan, two people were killed and three wounded in a bomb attack on a mosque close to customs offices at the Chaman border crossing to Afghanistan.

A local senior official Ibrahim Baloch gave the death toll for the Chaman bombing and said that a second bomb had been found in the area.

“We suspect that one of the dead had been trying to plant the bomb, but we can’t confirm this suspicion at the moment,” he said.

کوئٹہ: ٹارگٹ کلنگ میں دو ہزارہ ہلاک


آخری وقت اشاعت: پير 22 جولائ 2013 ,‭ 10:24 GMT 15:24 PST


کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سنہ 2002 کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا

پولیس کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کے روز مبینہ ٹارکٹ کلنگ کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ کی شاہراہِ اقبال پر ایک ٹیکسی میں سوار دو افراد جا رہے تھے جب ان پر یہ حملہ کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے اور شیعہ مسلک سے تھا۔

رمضان المبارک کے آغاز سے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے جن میں ہلاکتوں کی کل تعداد دس سے زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ کوئٹہ میں گذشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران تیس سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کر کیا تھا۔

ان گرفتاریوں کے دوران دھماکہ خیز مواد بھی بر آمد کر لیا گیا۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر فرنٹیئر کور کے انٹیلی جنس یونٹ نے پشتون آباد میں ترین روڈ پر ایک ٹیوٹا کرولا گاڑی سے 350 کلوگرام پوٹاشیم کلورائیڈ برآمد کر کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔

ایک اور کارروائی میں سریاب کے علاقے سے اٹھائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک ہفتہ قبل ہونے والے دو مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر کوئٹہ میر زبیر محمود نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا تھا کہ ’افطاری سے دو چار منٹ پہلے رضا الیکٹرانکس کے مالک رضا اپنے عزیزوں کے ساتھ گاڑی میں گھر جا رہے تھے کہ ان پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، اور ان کی گاڑی پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

اس واقعے کے چار گھنٹے بعد خداداد روڈ پر نامعلوم افراد نے جوس کی ایک دکان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

دوسرے واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے، تاہم مسجد روڈ پر ہونے والے واقعے کے بارے میں پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا۔

دوسری جانب کوئٹہ کی شیعہ تنظیموں نے ان واقعات کے خلاف ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سنہ 2002 کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کا زیادہ تر نشانہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد بنے جن کا تعلق شیعہ مکتبۂ فکر سے ہے۔

ہزارہ قبیلے کی جانب سے ستمبر 2012 میں سپریم کورٹ میں ایک فہرست پیش کی گئی تھی جس کے مطابق فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور بم دھماکوں میں قبیلے کے 700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 2012 میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے 320 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

Friday, July 19, 2013

کوئٹہ میں بارود اور دیگر آلات سمیت ماسٹرمائنڈ گرفتار


Friday 19 July 2013



کوئٹہ میں کچلاک کے علاقے سے مبینہ دہشتگرد گرفتار۔ فائل تصویر

کوئٹہ: جمعے کے روز پولیس نے کچلاک کے علاقے میں بم اور دھماکہ خیز مواد سمیت اس کے ماسٹرمائنڈ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کیپٹل سٹی پولیس افسر کوئٹہ میر زبیر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے کچلاک کے علاقے کلی لانڈی میں چھاپہ مارکر مولوی عرفان اللہ نامی شخص کو بارود اور دیگر برقی آلات سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

انہوںے کہا کہ پولیس کو اطلاعات ملی تھیں کہ عرفان اللہ دھماکہ خیز مواد سے بم بنارہا ہے تاکہ انہیں شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک سینیئر پولیس افسر کی نگرانی میں پولیس پارٹی کو بھیجا گیا جہاں دہشتگردی اس اہم ہدف کو گرفتارکرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان اللہ کے دو ساتھی عبدالہادی عرف خانہ کئی اور عبدالباقی پولیس کے پہنچتے ہی موقع سے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران، ریموٹ کنٹرول ، ٹائم ڈوائسز، بیٹریاں برآمد کی ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشگردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ کوئٹہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مکان سے نفرت پر مبنی لٹریچر بھی برآمد کیا ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

کوئٹہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے جو کئی طرح کی دہشتگردی کا شکار ہے۔ یہاں سب سے ذیادہ جس طبقے کو نشانہ بنایا جاتا ہے وہ ہزارہ شیعہ برادری ہے جن کے گھروں اور علاقوں میں خودکش اور ٹائم بم حملے کئے جاتے رہے ہیں۔



Thursday, July 18, 2013

717 people died in Pakistan in religious violence: USCIRF

At least 717 people were killed and 1108 injured in 203 targeted violence against religious communities in Pakistan since January last year, a report released by a Congress established independent commission has said.

Among those killed included two Hindus and one Sikh, said the "Pakistan Religious Violence Project" report released by the US Commission for International Religious Freedom, which tracked over the past 18 months publicly-reported attacks against religious communities in Pakistan.

It added that majority of the people who died were from the Shia community.

"The findings are sobering 203 incidents of sectarian violence resulting in more than 1,800 casualties, including over 700 deaths" the report said.

"The Shia community bore the brunt of attacks from militants and terrorist organizations, with some of the deadliest attacks occurring during holy months and pilgrimages," it added.

"While Shia are more at risk of becoming victims of suicide bombings and targeted shootings, the already poor religious freedom environment for Christians, Ahmadis, and Hindus continued to deteriorate, with a number violent incidents occurring against members of these communities," it said.

USCIRF said the Project's findings paint a grim and challenging picture for the government led by Prime Minister Nawaz Sharif.

"It was positive that the Prime Minister raised concerns about religious minorities during his maiden speech before the National Assembly, as well as travelled to Quetta after a recent bombing targeting Shi'a and tasked his government to act" the report added.

"However, concrete, resolute action is needed to ensure that perpetrators of violence are arrested, prosecuted and jailed" it said.

The USCIRF report added that in order to stem the rising tide of violent religious extremism, groups and individuals responsible for attacks on religious communities must be punished.

"In addition, while banned militant groups and private citizens are responsible for the majority of attacks on religious communities, government actors are not blameless police officers have turned a blind eye to mob attacks or have refused to file police reports when victims are religious minorities" it said.

The climate of impunity threatening all Pakistanis, regardless of their faith, also is exacerbated by the much abused blasphemy and anti-Ahmadi laws," the report said.

It added that majority of the rapes cases were reported against the Hindus, of the 12 rape cases reported in the 18 months period, seven were against the Hindus, and five against Christian.Business Standard

Tuesday, July 16, 2013

اگر قتل عام کو بند نہ کیا گیا تو مجبورا سول نا فرمانی کی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے ، اہل تشیع رہنما


کوئٹہ(قدرت نیوز) ہزارہ اکابرین طاہر خان ہزارہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید طالب آغا ، ہزارہ قومی جرگہ کے رہنما قیوم چنگیزی اورمجلس وحدت مسلمین کے رکن بلوچستان اسمبلی سید رضا محمد نے کوئٹہ میں اہل تشیع اور ہزارہ برادری کے قتل عام کو بندکرانے کیلئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے وہ کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کافوری نوٹس لیں ہم نے ہمیشہ مظالم کیخلاف پر امن احتجاج کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اگر اب بھی ا س قتل عام کو بند نہ کیا گیا تو مجبورا سول نا فرمانی کی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے علمدار روڈپر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک دھائی سے زیادہ عرصہ میں کوئٹہ کے اہل تشیع اور ہزارہ برادری پرقیامت برپا کی گئی ہے ایک منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کی پے درپے وارداتوں میں ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ بے گناہ افراد کو قتل اور ہزاروں افراد کو زخمی وزندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کیا گیا ہے لیکن انصاف ، قانون جرم و سزا کے سارے تصورات خاک میں مل چکے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے اپنی رٹ سے دستبردار ہو چکے ہیں اورہمیں باضابطہ طور پرنام نہاد دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نسل کشی کے پس منظر میں مذہب کے سیاسی استعمال کے مکروہ چہرے کارفرما ہیں ہم ہر گز یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ریاست اور اس کے ادارے اتنے کمزور اور بے بس ہیں کہ وہ بے گناہوں اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی اپنی قانونی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کے قتل کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں اور ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کی کیا شناخت ہے ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہمارا سوال تو ریاست اور اس کے اداروں سے ہے کہ وہ بے گناہ انسانوں کے قتل عام کو روکنے کی اپنی آئینی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کیوں غیر سنجید ہے ان واقعات کا قلع قمع کرنے اور اس میں ملوث عناصر کی بیخ کنی کی تمام تر ذمہ داری ریاست کی ہے جبکہ ادارے اس میں غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والی کاغذی تنظیمیں اخبارات کے ذریعے نان ایشوز کا واویلا مچا رہی ہیں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے کہا کہ اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور مزید مصلحت کی ہر گز گنجائش نہیں رہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں منظم ریاستی دہشتگردی کا سامنا ہے اور ہمارے قتل عام میں ریاستی ادارے براہ راست ملوث ہیں جو مجلس وحدت المسلمین پاکستان ایچ ڈی پی ، ہزارہ قومی تنظم، بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزارہ قومی جرگہ اور عوام اہل تشیع کا سنجیدہ اجتماعی موقف ہے انہوں نے کہا کہ ایک خوفناک سازش کے ذریعے آبادی اہل تشیع کے قرب و جوار میں رہائش پذیر بے گناہ مسلمانوں کو قتل عام کر کے یہ تاثردینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ سنی مسلمانوں کو اہل تشیع قتل کر رہے ہیں تاکہ فرقہ واریت کارنگ دیا جا سکے لیکن ہم سیاسی اور دینی جماعتوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں، بلوچ پشتون قبائلی عمائدین اور عوام کواس صورتحال سے آگاہی دیناچاہتے ہیں کہ ا س گھناؤنی سازش کے پیچھے شہر کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنے کا مقصد کار فرما ہے جو اجتماعی تباہی کا سبب بن سکتا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسجد روڈ پر بے گناہ ہزارہ تاجروں کے قاتل خدائیداد روڈ میں نہتے معصوم افراد کے قتل میں بھی ملوث ہیں جن کیخلاف ٹھوس اور عملی کارروائی چاہئے تاکہ کوئٹہ 
شہر کو سازشی عناصر کے ناپاک عزائم سے بچایاجا سکےی


Press Conference at Nichari Imambargah(16-07-2013)


Shutter-down strike in Quetta over killings

DAWN.COM and SYED ALI SHAH

—File Photo.
Updated 2013-07-16 12:58:59

QUETTA: A shutter-down strike was being observed in Quetta on Tuesday as a sign of protest against yesterday's killings of seven people, including four Hazara men, on the call of the Hazara Democratic Party, DawnNews reported.

Four men of the Hazara Shia community were killed and two others injured in an attack on Quetta’s Masjid road.

According to the police, Raza Hussain and his colleagues were going home after closing their electronic shop when gunmen on a motorcycle opened fire on their vehicle. The attackers escaped after the shooting.

Later on Monday, gunmen opened fire at a cold drink shop in Khudaidad Chowk area, seriously injuring five people.

The wounded were rushed to Civil Hospital, however, three of them succumbed to their injuries on their way.

A heavy contingent of police and Frontier Corps (FC) personnel have been deployed in various parts of the city today to avoid the occurrence of another untoward incident in the provincial capital.

Meanwhile, chief of the Hazara Political Workers Party, Muhammad Tahir Hazara, threatened to launch a civil disobedience movement if genocide against Hazaras was not stopped.

Addressing a press conference, along with leaders of almost all the Hazara and Shia organisations, Muhammad Tahir Hazara said: "We will approach United Nations and other human rights groups if the killings are not stopped".

He lamented that under an organised conspiracy, Hazaras were being targeted right under the nose of law enforcement agencies.

Tahir said that since the last few months Sunni Muslims living close to Hazaras were being targeted to foment sectarian differences and conflict. "Some elements want to lead the city towards civil war", he feared.

He demanded political forces and members of the civil society to break their silence over the killings of Hazaras, adding that rulers must take practical steps to put a stop to the attacks.

Mourning, strike in Quetta over Hazara people’s killing


Monday, July 15, 2013

Four Shia Hazaras gunned down in Quetta: police

DAWN.COM and SYED ALI SHAH

Photo shows the vehicle of the four victims of the gun attack in Quetta on July 15, 2013.—Photo by Online

QUETTA: Gunmen opened fire at a vehicle in Quetta on Monday, killing four men belonging to the ethnic Shia Hazara community, police said.

Fayyaz Sumbal, the Deputy Inspector General Police, said four militants sprayed bullets on the victims who were travelling in the vehicle on Masjid road area of Quetta, the capital of militancy-hit Balochistan province.

All four men sitting in the vehicle were seriously wounded and succumbed to their injuries on their way to the Combined Military Hospital, he said.

Capital City Police Officer Mir Zubair Mehmood confirmed that all four victims belonged to the Hazara Shia community. Mehmood said security had been tightened following the attack and that the number of personnel guarding all exit and entry points of Quetta city had been doubled.

Quetta has witnessed a recent surge in incidents of sectarian violence, with militants repeatedly targeting the Hazara Shia community in several bombings and gun-attacks.

The Hazara Democratic Party and other Shia organisations have called for three days of mourning and a shutter-down strike on Tuesday in protest of the attack.

Monday’s incident comes exactly two weeks after a deadly suicide bombing at a Quetta Imambargah killed 30 members of the minority community. The Lashkar-i-Jhangvi had claimed responsibility for the blast, one of a series of attacks this year by the sectarian outfit targeting the Hazaras.

Meanwhile in a statement issued Monday evening, Prime Minister Nawaz Sharif strongly condemned the firing incident and expressed his condolences to the bereaved families. Governor Mohammad Khan Achakzai also condemned the attack.

‘Peace only solution to Balochistan’s problems’

Earlier on Monday, the provincial chief of the ruling Pakistan Muslim League – Nawaz (PML-N), Nawab Sanaullah Zehri, termed the restoration of peace vital for prosperity of the militancy-hit province.

“Peace is the only panacea to all ills of Balochistan,” the senior provincial minister told a press conference at his residence.

Nawab Zehri said Balochistan’s problem was neither the construction of motorways nor development projects rather the worsening law and order problem was the first and foremost issue.

“Construction of motorways does not answer the problem of peace in the province,” he said.

The senior minister expressed serious concerns over the worsening law and order situation and vowed to work with allied parties for restoration of peace in Balochistan.

He said once the cabinet is formed then the allied political parties leaders would put their heads together to find an amicable solution to issues relating to the sparsely populated province of the country.

4 Hazaras are gunned down on Masjid Road, Quetta


کوئٹہ میں فائرنگ سے ہزارہ برادری کے چار افراد جاں بحق


Updated on: 8:55:35 PM پیر, 15 جولائی 201



اسٹاف رپورٹر
کوئٹہ: رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی دہشت گرد موت بانٹنے کا خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں اور بلا روک ٹوک بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔
کوئٹہ میں افطار کے وقت قاتلوں نے چار افراد پرگولیاں برسا کرانھیں موت کی نیند سلادیا۔
دہشت گردوں نے کوئٹہ کی مسجد روڈ پرایک گاڑی کو نشانہ بنایا اوراندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ سے گاڑی میں سوار چارافراد جاں بحق ہوگئے۔ 
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے احتجاجاً کل شٹرڈاؤن ہڑتال اوربلوچستان شیعہ کانفرنس نے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ 
جاں بحق افراد کاتعلق ہزارہ برادری سے ہے۔
واقعے کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کل شٹرڈاؤن ہڑتال ۔جبکہ بلوچستان شیعہ کانفرنس نے یوم سوگ کااعلان کردیا ہے۔



Friday, July 12, 2013

Spare a Thought for the Hazaras of Quetta



Llewelyn Morgan
Posted: 11/07/2013 22:51

A month ago, on June 15th, a bus carrying students home from the Sardar Bahadur Khan Women's University in Quetta, Pakistan, was hit by a female suicide bomber. The bus was destroyed and fourteen passengers left dead; but that wasn't the end of it. The militant group behind the bombing, Lashkar-e Jhangvi (LeJ), then attacked the Bolan Medical Complex, where the injured had been taken and anxious relatives were gathering, killing four nurses, among others. We sometimes need to be reminded how utterly depraved the ideology is that drives jihadist groups like the LeJ. University students are blown up, and a hospital is attacked to intimidate and murder those ministering to the victims.

But who are Lashkar-e Jhangvi's victims? The simple answer is, Muslims from the alternative, Shia tradition of Islam. A brutal campaign targeting the Shia minority in Pakistan has been going on for years, with Sunni militant groups like Lashkar-e Jhangvi declaring the Shia heretics and "deserving of death"; and they have encountered scandalously little opposition from the Pakistani authorities, elements of which are quite clearly complicit with the LeJ's agenda. Extremists of the LeJ's stripe consider fair game anyone who hold beliefs different from their own (Christians, Ahmadi Muslims, etc.), but a particular focus of attacks has been the Hazara community in Quetta, descendants of refugees from Afghanistan who are predominantly Shia, and have distinctive, east-Asian features, making them readily identifiable targets....Continue Reading... 

Friday, July 5, 2013

Does Pakistan have a plan to halt terrorism?


AP

This Sunday, June 30, 2013 photo shows a army standing alert at the site of car bombing that killed more than a dozen people and left many injured in Peshawar, Pakistan. There is concern that the country's leaders lack a coherent strategy to fight the pervasive problem of violent extremism. — AP Photo.

Published 2013-07-05 14:11:31

ISLAMABAD: Terrorists have killed at least 160 people during the new Pakistani government's first month in office, fueling concern that the country's leaders lack a coherent strategy to fight the pervasive problem of violent extremism.

The ruling Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) scored a resounding victory in national elections in May with a platform that promoted peace talks as the best way to quell a systematic campaign by the Pakistani Taliban which has killed thousands of people. The plan quickly fell apart after the Taliban withdrew their offer to talk in response to a US drone strike that killed the group's deputy leader at the end of May.

The government has yet to articulate an alternate strategy, and in the meantime, the attacks keep coming. ''The government is completely confused over the terrorism problem,'' said Zahid Hussain, whose books plot the rise of militancy in Pakistan. ''The government's indecisiveness and dithering has emboldened the militants.''

At least 160 people were killed in suspected militant attacks in June, according to an Associated Press count. It was the second most deaths in a month this year, following April, when there were many attacks related to the election, said Mohammed Amir Rana, head of the Islamabad-based Pakistan Institute for Peace Studies. Hussain and other analysts said the government failed to respond aggressively enough to the attacks over the last month. The government mostly relied on routine press releases that criticized the violence and expressed sorrow for the dead, but made no mention of who carried them out or how they would respond.

The government has taken a few public steps to show it is dealing with the attacks, which included the killing of international tourists at a scenic mountain, a suicide bombing of women university students and an attack on a funeral that killed a lawmaker. On Tuesday, Prime Minister Nawaz Sharif flew to Quetta, which has recently been the base for repeated attacks on the Hazara community. He brought senior security officials with him, including the head of the powerful Inter-Services Intelligence (ISI)...Continue Reading... 

Sadness in excess


By Kamran Shafi
Published: July 4, 2013


The writer is a columnist, a former major of the Pakistan Army and served as press secretary to Benazir Bhuttokamran.shafi@tribune.com.pk

I was to give you “far sadder stuff” from my trip to Quetta with the HRCP, in continuation of my piece of last week, wasn’t I? Well, a most sad event, yet another killing of yet more innocent Hazaras took place mid-week just as I was marshalling my thoughts and feelings.

So, the dark glasses and the burqas and the helmets didn’t help, did they? For when we met Hazara political leaders just 12 days ago, they said that whilst they were generally a liberal, educated, outgoing people, even their women and girls had begun to wear burqas to hide their Hazara features.

The men and boys wore dark glasses all the time for the same reason, and those who owned motorcycles wore helmets even while buying/delivering stuff in the marketplaces, even in the intense heat for the same reason.

But none of that helped did it? For the murdering, heartless sectarian terrorists hit them while they were at prayer at an imambargah, where you would only find Shias. What would the Hazara do now? Which cave will they now cower in? Sitting ducks poor things, who gave us our second Commander-in-Chief; courageous fighter pilots; and excellent soldiers with a sense of duty par excellence.

WHEN will the mayhem end? And why not sooner rather than later when the perpetrators are known by their OWN admission of guilt? Punjab is the largest, most powerful province in the country which professes that it will look after the other smaller, more challenged ones, Balochistan leading. Well then, why not straightaway; why not today, when one of the heads of the hydra-headed monster stares us in the eye?

But back to our mission; the first stop of which was a call on the new chief minister of Balochistan, Dr Abdul Malik. I liked him instantly: light and quick of step; straight backed; bright eyes that looked directly at you; a quick wit and an earthiness that only comes with years of very middle-class political activism. May God and nature be kind to him, and may he be able to (or is “allowed to” the word I want?) do the good work he is surely cut out to do.

The recent visit of the prime minister’s to Balochistan and his reiterating that all the agencies of the State must help the new government by following its instructions, is a step in just the right direction. Indeed, I was most heartened to see that possibly the most important person in this whole blessed tamasha, the only English equivalent being “shemozzle”, of Balochistan, the DG ISI was also asked to be there by the PM.

The man who holds all the strings of all the puppets, the IG Frontier Corps (who refused to interact with us, BTW! Indeed, who didn’t even return our telephone calls for a meeting!) had to be there willy-nilly too, which can only spell good for poor old Balochistan.

Our next visit was to the Balochistan Medical Complex (BMC) where the dead, dying and injured girls from the Women’s University (ages 16 to 23, shame on you gentlemen and women terrorists), just down the road, were taken after the blast in their bus. You have to see the site of a suicide bombing to believe it, which is all I will say.

Immediately after, we went to the Women’s University where the tragedy took place and met Vice Chancellor Mrs Sultana Baloch who, strong woman though she is, was still in tears talking about her girls. One was in tears oneself hearing her recount the ordeal they all went through: the complete panic that even the university for young Balochistani girls from all over, even Zhob, was not safe in the monstrous place we have made our country.

It was great to see the HRCP volunteer the services of trauma counsellors from Lahore and Karachi at its own expense if the University thought it would be helpful for those most affected by the mental anguish that such an event surely generates. The thing that stood out most was the spirit with which the young girls wanted the University to reopen and classes to restart. Maybe this generation that has seen the worst of it will, in the end, defeat the monsters?

We then visited the CMH to see the three girls being cared for there and were impressed by the quality of care and of the equipment, second to none in the country, that was being used. All three were in great spirits and wanting to return to their university like their other fellow-students. We also saw a police DSP and a Havildar of the FC, also gravely injured in the attack at the BMC and were told by the smart Lt Col, who was taking us around that, the police officer had barely survived.

The next day at 7.30 in the morning saw us on our way to Ziarat to visit the blown-up Residency in which the Quaid-e-Azam spent some few days when he was mortally ill. It is a hulk of what it was, burnt to ashes, even parts of the two great chinars in the front lawn, charred. Brought back memories when two friends. Lts Sabir Ali and Abdul Haque, and I of the same rank, actually stayed in rooms right adjacent to the Residency itself in August 1967.

It hurt to see part of our national heritage burnt down; but it hurt infinitely more to see the distraught VC of the Women’s University; the injured girls and jawans, and the grieving relatives of the dead. Buildings can be rebuilt; the dead cannot be brought back and the lives of their loved ones cannot be put together again.

P S: Might one suggest to the PkMAP gentleman who said buildings such as the Quetta Residency brought back memories of the Raj (which is why it was destroyed) to burn down the Quetta Governor’s House and destroy the rail line to Quetta too? Listening, Abdus Samad Khan Achakzai?

Published in The Express Tribune, July 5th, 2013.

Like Opinion & Editorial on Facebook, follow @ETOpEd on Twitter to receive all updates on all our daily pieces.

کوئٹہ،سیکیورٹی فورسزکاآپریشن،کالعدم تنظیم کےافراد گرفتار


Updated on: 12:22:54 PM جمہ, 5 جولائی 201



ویب ڈیسک:
کوئٹہ : کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں سیکیورٹی فور سز کی کارروائی میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا،گرفتار ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ 

سرکاری ذرائع کے مطابق کچلاک کلی ناصران میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے مکان پر چھاپہ مارا اور وہاں سے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے اسلحہ برآمد کرلیا۔ ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزمان نے اپنے مزید ساتھیوں کی موجودگی اور کارروائیوں سے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا کہ مزید گرفتاریوں اور چھاپوں کا امکان ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق ملزمان خودکش حملہ آوروں کو تربیت دینے کے بعد کوئٹہ اور وزیرستان روانہ کرتے تھے۔ تینوں کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے۔ سم



Samma

Monday, July 1, 2013

ہزارہ ہلاکتیں: محض مذمتی بیانات کافی نہیں

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آخری وقت اشاعت: پير 1 جولائ 2013 ,‭ 16:24 GMT 21:24 PST


’ہزارہ برادری کے خلاف حملے، جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘

مختلف سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنانے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ محض مذمتی بیانات دینے سے معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کی زیادہ تر ذمہ داری وفاقی حکومت پرعائد ہوتی ہے۔

ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما صابر علی بلوچ نے بی بی سی سے بات چیت میں موجودہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ملک میں امن وامان کی بحالی اُن کی اولین ترجیحات میں سے ہے لیکن اس جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد شدت پسندی کے واقعات میں کمی آنے کی بجائے اُس میں اضافہ ہوا ہے۔

صابر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومِت وقت کو فوج ، متاثرہ ہزارہ برادری اور دوسرے اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کی سیاست سے فوج کے کردار کو کسی طور پر بھی کم نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ہزارہ برادری پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ اس تنظیم کے ٹھکانے صوبہ پنجاب میں ہیں اور وفاق اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ہے تو پھر وہ اُن کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔

پاکستان تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت وقت کو برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوں کے ساتھ بھی بات کرنی چاہیے کہ اُنہوں نے پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث بلوچوں کو کیوں اپنے ملکوں میں پناہ دی ہوئی ہے۔

شریں مزاری نے الزام عائد کیا کہ یہ ممالک بلوچ بھگوڑوں کو مالی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں سابق حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں اتنی عمل دراری نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومتیں دکھانے کی ہیں اور اس صوبے میں فوج اور اُس کے خفیہ ادارے سب سے زیادہ بااختیار ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ حساس ادارے منتخب حکومتوں کو کام کرنے کا موقع دیں۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی جماعت کو یہ تمام مسائل ورثے میں ملے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بلوچستان میں امن وامان کی بحالی کے لیے پُرعز م ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت شورش زدہ علاقوں میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گی۔ مشاہداللہ خان کا کہناتھا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتی ادارے جلد بیٹھ کر اس بارے میں حکمت علی تیار کرلیں گی۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئٹہ شہر جہاں پر سب سے زیادہ سیکورٹی اور خفیہ اداروں کے اہلکار تعینات ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پر شدت پسندی کے واقعات ہونا بظاہر سیکورٹی اور خفیہ اداروں میں تعاون کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔

We can't negotiate with Lej

Pakistan bleeds with Hazara blood, do you even care?

July 1, 2013


How many more dead bodies must they put under the open skies for us to realise what monstrosity has just ripped through us? PHOTO: AFP


“My heart cries tears of blood for the Hazaras… #ShiaGenocide, when will we wake up?… What has Pakistan come to?! Oh God!!… This country does not deserve to be called “PAK-istan”…”

These statements are clichés. They mean nothing. They have no purpose. They’re just uttered to make ourselves feel good about atrocities which we mostly can’t, and usually won’t do anything about.

At least 46 people died yesterday. How many of us cared? 18 people died in Peshawar yesterday. How many of us bothered to find out three kids died in that attack?

How many of us had the apathy to find out that the doctors and rescue teams ran in terror as the terrorists from Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) allegedly told them they would be murdered if they tried to treat the “kaafir” Shiites who desperately needed treatment?


“I’m going to launch a protest movement on Facebook! Enough is enough!… I’m live tweeting the #HazaraGenocide… This madness needs to stop!…”

Yesterday when David Cameron was standing under the open skies of Islamabad, people were dying in Peshawar. While our leaders were busy making promises to fight terrorism, and eradicate the electricity menace, kids were burning, screaming, dying.

Did a single hair on their heads ruffle? Did they shudder?

Did they feel a cold settling in their guts? Did anyone care enough to go to Peshawar and look the mother of the 6-year-old girl in the eye and tell her,


“I’ve failed… Forgive me? We’ve all failed, forgive us all…?”

I used to think Pakistan belonged to us. But recently I have realised Karachi belongs to A, Quetta belongs to B, and Lahore belongs to C. Federally Administered Tribal Areas (Fata) belongs to the foreigners, and Islamabad is home to ostriches.

Pakistan is not mine. Even my home is not mine. I am not a Pakistani. None of us are. Or ever were. It was a delusion that took 65 years to wear off, it seems.

Abul Kalam Azad, a fierce opponent of the Pakistan movement had predicted in 1946 what would happen to us. East Pakistan would break, and the west wing of Pakistan which was to be ruled by feudal lords, and uneducated loafers would self destruct.

Abul Kalam Azad said in 1946 this delusional idea of “we’re all Muslims and hence one nation” is false. We are not one nation. We are Sunni, Shiite, Ahmadi, Barelvi, Wahabi, Sufi, Salafi, Hanbali, Ismaili, Alawi, Naqshbani, Uwaiysi, Qadri, Zikri and so on and so forth. And amongst these we are Takfiris, incapable of accepting the faith of another, or living by it.


“Shias are kaafirs, they deserve what they’re getting… Our movement is to get Shias declared as non Muslims under the constitution of Pakistan… Killing Shias is tantamount to killing the enemies of Islam, and that is what Islam tells us….”

It seems such a long time when I was apologising to the Shiites, but even that apology sounds fake, and hollow, and distraught.

Last time the Hazaras took 86 dead bodies and waited in the open cold under the star less night waiting for deliverance which never came. How many more dead bodies must they put under the open skies for us to realise what monstrosity has just ripped through us?


“They say after every fall, there is a rise…. But the bottom feels like an endless pit of sweltering tar that’s pulling us deeper inside….”

Pakistan started dying the day it was born. Our “Islam”, our “Musalmaniyat” was the cancer that started feeding the hate and disgust that we feel toward one another.

Once upon a time it was the Christians and Hindus and Parsis who felt scared. Now we Muslims feel scared of other Muslims. Islam’s neck was held by the throat and squeezed till its eyes popped. As a result Islam was replaced by a vicious form of barbarianism.

When Pakistan started dying, we held candlelit vigils. We made Facebook pages dedicated to the cause of defending our fallen brothers. We promised we’re all Pakistanis. But one by one we kept falling.

When Pakistan started dying we Tweeted nonstop. We shouted, fought, but we lost. When it was our turn to be slaughtered like animals, we cried and we begged for mercy that was never forthcoming.

They came for the Hindus. We didn’t care.

They came for the Christians. We didn’t care.

They came for the Ahmadis. We said Ahmadis deserve this!

They slaughtered Salman Taseer. We garlanded his murderer.

They came for the Shias. We turned a blind eye.

They’re coming for us and there is nothing anybody is doing about it.

This post originally appeared here

Read more by Hamza here or follow him on Twitter @hmz_89

The views expressed by the writer and the reader comments do not necessarily reflect the views and policies of The Express Tribune.

Geo Reports-Quetta Mourns Hazara Killings-01 Jul 2013

Chairman of HDP, Khaliq Hazara's speech on Hazara Town Graveyard


Quetta Hazara town bombing: Victims buried under strict security


DAWN.COM | SYED ALI SHAH

Rescuers and residents gather at the suicide attack site in Quetta on June 30, 2013.—Photo by AFP
Updated 2013-07-01 16:09:50

QUETTA: All 30 victims of a deadly suicide bombing in Quetta’s Hazara town were laid to rest on Monday amid tight security from police and paramilitary troops.

A large number of people were present at the burial under security cover by the provincial administration. Security was also tightened in and around Hazara Town to prevent the occurrence of another untoward incident. Frontier Corps (FC) and police personnel were deployed at all exit and entry points leading to Hazara town.

A day of mourning was being observed in Quetta in the wake of the blast on the call of the Hazara Democratic Party, Shia Council and the Pakhtunkhwa Milli Awami Party (PkMAP). All government offices were shut in the provincial capital to mourn the tragedy, and the main markets in the city also remained closed.

The deadly suicide blast ripped through the Aliabad area of Hazara town on Sunday night, claiming 30 lives and leaving around 70 wounded.

“A suicide bomber blew himself up near a barrier close to Ali Ibn-Abu-Talib Imambargah,” DIG (Investigation) Syed Mobin Ahmed had told Dawn.

The explosion killed 28 people and wounded 70 people belonging to the ethnic Shia Hazara minority on Sunday. Two of the wounded later succumbed to their injuries at the military-run Combined Military Hospital on Monday morning, raising the death toll to 30.

Sources said that an unidentified man on a bicycle tried to enter the area and when people standing near the barrier tried to stop him he blew himself up.

The proscribed Lashkar-i-Jhangvi has claimed responsibility of the attack.

Meanwhile, police have traced the head and some body parts of a suicide bomber behind a deadly blast.

Fayyaz Sumbal, the Deputy Inspector General Police, told Dawn.com on Monday that the head and body parts of the suicide-bomber would soon be sent for forensic tests. He said investigators had also approached Nadra for identification of the suicide bomber.

Earlier on Monday, senior government official Shehzada Farhat told Dawn.com that some of the injured persons were still serious in serious condition. The wounded were being treated at the CMH.

A six-member police team has been formed to probe the deadly bombing. The Superintendent of the Police Investigation, Muhammad Tariq, was designated to lead the team. A case against the unknown militants was also registered at the Browery Police Station.

Meanwhile, investigators from the secret services investigated the site of the incident and checked the wreckage of the blast for clues.

DIG Sumbal, however, told Dawn.com on Monday that no suspect had yet been detained by police after Sunday night’s deadly bombing.

کوئٹہ: ہلاکتوں کی تعداد تیس، تحقیقاتی کمیٹی قائم


آخری وقت اشاعت: پير 1 جولائ 2013 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST


ہلاک ہونے والوں کی تدفین آج کی جائے گی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کو ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہو گئی اور پچاس افراد زخمی ہیں۔

کوئٹہ کے ڈی آئی جی آپریشن کے مطابق دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے پچاس افراد میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں شیعہ برادری کی تنظیم تحفظ اعزادری کی اپیل پر شڑ ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ شہر میں ہڑتال کا زیادہ اثر شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہے۔ شیعہ تنظیموں نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

اتوار کو کوئٹہ مغربی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں رات آٹھ بجے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

کوئٹہ پولیس کے اعلیٰ افسر ڈی آئی جی فیاض سنبل نے بتایا ہے کہ ہزارہ ٹاؤن کے علاقے میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملے کا نتیجہ تھا۔

ہزارہ ٹاؤن میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی آبادی ہے اور انھیں اسے پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ رواں سال فروری میں فروٹ مارکیٹ میں ہونے والے ایک زوردار دھماکے میں کم از کم سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شیعہ ہزارہ برادری شدت پسند حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کر چکے ہیں۔

جنوری میں شیعہ ہزارہ نے شدت پسندی کے واقعے میں ہلاکتوں کے بعد اپنے پیاروں کی میتوں کو دفنانے سے انکار کر دیا تھا اور صوبے میں گورنر راج نافذ کر کے کوئٹہ شہر میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا۔ تقریباً دو دن تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے کے بعد صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔

بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کوئٹہ میں گزشتہ ماہ دو دھماکوں اور فائرنگ کے واقعے میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور چودہ طالبات سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایف سی کے کپتان سمیت پچیس سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے اتوار کو ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں نیم فوجی دستے کے ایک قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے سے دو بچوں سمیت سترہ افراد ہلاک اورتین ایف سی کے اہلکاروں سمیت سینتالیس افراد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ بعد دوپہر اینڈس ہائی وے پر بڈھ بیر تھانے کے قریب پیش آیا۔گزشتہ سال دسمبر میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر اور متنی میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ حکومت کی جانب سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔