Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Friday, March 14, 2014

بلوچستان: عسکری گروپوں کا نیا خفیہ اتحاد، تازہ حملے میں بارہ افراد ہلاک


کوئٹہ میں عسکریت پسندوں کے بم حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک جبکہ پینتیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روز ہی بلوچستان میں سرگرم عمل عسکری گروپوں نے مشترکہ اہداف پر حملوں کے لئے نیا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستانی شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں سُنی شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی، ایرانی بلوچستان میں سر گرم عمل جیش العدل اور کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے اپنے مشترکہ اہداف پر حملوں کے لئے ایک خفیہ اتحاد قائم کیا ہے، جسے ماہرین نے صوبے میں قیام امن کے لئے ہونے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک نئی سازش سے تعبیر کیا ہے۔

انٹیلی جنس حکام کی جانب سے حکومت کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں بد امنی میں ملوث ان کالعدم تنطیموں نے اپنے اہداف کے لئے قائم کئے گئے اسٹریٹیجک اتحاد میں نئے حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی ہے جن کا مقصد بلوچستان میں قیام امن کے لئے ہونے والی ان تمام کوششوں کا ناکام بنا نا ہے جو کہ صوبائی حکو مت کی جانب سے اٹھائی گئی ہیں۔ دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود کے بقول بلوچستان کی عسکریت پسند تنظیمیں حکومتی بے حسی کا فائدہ اٹھا کر مزید منظم ہو رہی ہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا، ’’مرکزی حکومت بلوچستان کی طرف کوئی توجہ بالکل نہیں دی رہی ہے۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے اپنے اوائل میں بلوچستان کے لئے اقدامات کی یقینی دہانی کروائی تھی لیکن عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا، اسی لئے علیحدگی پسند تنظیمیں اب مزید زور پکڑتی جا رہی ہیں۔‘‘

جنرل (ر ) طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت مخالف بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں اور مذہبی شدت پسند گروپ صوبے میں انتشار پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے حکمت عملی تبدیل کی ہے،’’یہ مسلح گروپ بہت مضبوط ہو چکے ہیں اور نسبتاﹰ بلوچستان کی حکومت بہت کمزور ہے۔ اس لئے یہ صوبے میں جاری شورش سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان گروپوں کے بیرونی رابطے بھی ہیں اور جو پراکسی وار چل رہی ہے، ایران اور سعودی عرب کی، اس کے اثرات بھی پاکستان پر پڑ رہے ہیں ہیں۔‘‘

شدت پسند گروپوں کے اس نئے ا تحاد کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور آج کوئٹہ کے بارونق علاقے جناح روڈ پر سائنس کالج کے قریب شدت پسندوں کے ایک اور بم حملے میں 12 افراد ہلاک جبکہ چالیس افراد زخمی ہو ئے ہیں، جن میں بچے خواتین اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے۔ دوسری طرف امن و مان کی بحالی کے لئے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سکیورٹی کو بھی ہائی الرٹ کر د یا گیا ہے۔

No comments:

Post a Comment