Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras. The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they face on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness, and disinformation.

Sunday, September 9, 2012

ساعت پیش، طالبان مسلح در ولایت میدان وردک شش سرنشین یک موتر مسافر بری را کشتند

.
یک منبع در اداره امنیت ملی در ولایت میدان وردک به خبرگزاری بخدی گفت: "این شش تن حوالی ساعت 10 صبح امروز در منطقه ملا خیل از مربوطات مرکز ولایت میدان وردک، از سوی طالبان در محل نامعلومی برده شدند و اجساد آنان ساعت پیش، در جاده عمومی پیدا شده است."

منبع می گوید که قربانیان باشندگان ولسوالی بهسود ولایت میدان وردک هستند.
به گفته او تا هنوز انگیزه این کشتار معلوم نیست.

او تایید کرد که افراد وفادار به قاری سید آغا از قوماندانان طالبان در میدان وردک این شمار از مسافران را کشته اند.
در این اواخیر، ناآرامی ها در میدان وردک افزایش یافته است.

حداقل در یک ماه گذشته شماری از مسافران در میدان وردک نخست اختطاف و سپس به طور "وحشتناک" کشته شدند.
ولسوالی جلریز در میدان وردک از خطرناکترین ولسوالی های میدان وردک خوانده شده است.

با این حال، منبع امنیتی که با خبرگزاری بخدی صحبت می کرد می گوید که هیچ اسنادی که نشان بدهد قربانیان وظیفه نظامی یا ارتباطی با دولت داشته باشند، از اجساد پیدا نشده است.

جزییات بیشتر این خبر بعدا نشر می شود

Saturday, September 8, 2012

درگیری در چوک شهید مزاری شهر کابل

PM - 7th September 2012

پاکستان میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی زیر عتاب



یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا کہ نادر علی آسٹریلیا پہنچ جائے، جہاں وہ سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جکارتہ سے آسٹریلیا کے لیے روانہ ہونے والی اُس کی کشتی گزشتہ دو ماہ سے لاپتہ ہے۔


پاکستانی صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا رہائشی نادرعلی شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئٹہ میں روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرنے والا 45 سالہ نادر علی کسی نہ کسی طرح انڈونیشیا پہنچا تھا، جہاں سے وہ بائیس مئی کو جکارتہ کی ایک بندر گاہ سے ایک کشتی کے ذریعے آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوا۔

قریب دو ماہ قبل اس کشتی سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جس میں سوار تھا۔ گزرتے دنوں کے ساتھ ایسی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں کہ نادر علی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ زندہ مل جائے گا۔ اس کشتی میں مجموعی طور پر 24 افراد سوار تھے، جن میں سے متعدد نادر علی کی ہی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ انہیں پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ کشتی چھوٹی ہے اور سمندر کی لہریں تند و تیز لیکن وہ پھر بھی آسٹریلیا جانے کے لیے بضد تھے۔

بنیادی طور پر اس نسل کا تعلق افغاستان سے ہے

نادر علی کے چھوٹے بھائی قادر نائل نے خبر رساں ادارے آئی پی ایس کو بتایا، ’’ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ اس کا بھائی ڈوب گیا ہے، اس لیے وہ پر اُمید ہے‘‘۔ کوئٹہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ وہ حقیقت کے بر خلاف سوچ رہے ہیں۔ نادر علی نے آسٹریلیا پہنچنے کے لیے دس ہزار ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

شیعہ ہزارہ کمیونٹی ملک سے فرار کیوں ہو رہی ہے؟

پاکستان میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کی کل آبادی کا اندازہ ساڑھے نو لاکھ لگایا جاتا ہے، ان میں سے قریب چھ لاکھ کوئٹہ میں آباد ہیں۔ یہاں اس کمیونٹی کو نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور سزاؤں کا سامنا ہے۔ پاکستان کی سُنی مسلمان آبادی اور ہزارہ شیعہ برادری کے مابین تنازعے کی ایک تاریخ ہے۔

دنیا بھر میں ہزارہ نسل کے لوگوں کی کل آبادی 3.4 ملین بتائی جاتی ہے۔ یہ تمام لوگ اپنے مخصوص منگول نقوش کی وجہ سے فوری طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس نسل کا تعلق افغاستان سے ہے، جو وہاں موجود سُنی پشتون قبائل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے 120 برس قبل وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو ئی ۔

پاکستان میں اس کمیونٹی کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔ اس دوران اس برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد حکومتی سطح پر اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجہ سے اس کمیونٹی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا عمل شروع ہو گیا۔

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران بلوچستان سے شیعہ ہزارہ برادری کی ایک بڑٰی تعداد وہاں سے ہجرت پر مجبور ہو چکی ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق نے بتایا کہ ایک دہائی کے دوران ان کی کمیونٹی کے پچیس ہزار افراد پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔

شیعہ ہزارہ کمیونٹی پاکستان میں محفوظ نہیں

پاکستان ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹرعلی دایان کہتے ہیں کہ بالخصوص کوئٹہ میں یہ کمیونٹی ہرگز محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ دایان کے بقول یہ ہر گز حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان مخصوص حالات میں اس کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد سیاسی پناہ کی متلاشی ہے۔

یہ تمام لوگ اپنے مخصوص منگول نقوش کی وجہ سے فوری طور پر پہچانے جاتے ہیں

جنوبی ایشیا کی سطح پر کام کرنے والے ایک ادارے SATP کے مطابق رواں برس اکیس مختلف وارداتوں میں اسی کمیونٹی کے 47 افراد مارے جا چکے ہیں۔ نیوزایجنسی اے ایف پی نے ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں برس ’ٹارگٹ ِکلنگ‘ کے واقعات میں مجموعی طور پر 320 شیعہ افراد کی ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں، جن میں سے متعدد ہلاک شدگان کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تھا اور ہلاکتوں کے 100 واقعات صرف بلوچستان میں رونما ہوئے۔

بتایا جاتا ہے کہ شیعہ اور بالخصوص شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے خلاف منظم حملوں کے لیے سنی جہادی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے 2011ء میں شیعہ ہزراہ کمیونٹی کو خبردار کیا تھا کہ اب ان کے خلاف جہاد ان کا فرض بن چکا ہے۔ اس جنگجو سنی تنظیم کے بقول وہ ’پاکستان میں سچے اسلام کا علم بلند کر کے ہی آرام سے بیٹھیں گے‘۔

نئی دہلی میں واقع تنازعات کے حل کے لیے کام کرنے والے ایک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق امبرین آغا پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کی ہلاکتوں کو فرقہ ورانہ کارروائیوں کا نام دیتی ہیں۔ وہ 2010ء سے شیعہ ہزارہ کمیونٹی پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی بھی کوئی مؤثر مزاحمت نہیں دکھائی ہے۔ ان کے بقول نسلی بنیادوں پر تشدد کرنے والے جنگجوؤں کے نہ صرف مذہبی جماعتوں سے روابط ہیں بلکہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ بھی ان کا ساتھ دیتی ہے۔

ab / aa (AFP, IPS)

درگیری در غرب کابل، ۵ کشته و زخمی در پی داشت/ تکمیلی


مقامات امنیتی کابل از کشته شدن یک پولیس و یک غیرنظامی و زخمی شدن ۳ پولیس دیگر در نتیجه درگیری ها در غرب کاب خبر دادند.

به گزارش جمهور، ایوب سالنگی، فرمانده امنیه کابل اظهار کرد: در نتیجه درگیری میان پولیس و مردم در غرب کابل، ۱ پولیس و یک فرد ملکی کشته و ۳ پولیس دیگر زخمی شدند.

به گفته وی، این حادثه پس از آن به وقوع پیوست که چند جوان از برادران هزاره و پنجشیری باهم درگیر شدند.

سالنگی افزود: گروهی از مردم خشمگین، پوسته حوزه ششم امنیتی را به آتش کشیدند.

این درگیری ها حوالی ساعت ۱۰:۳۰ صبح امروز، مصادف با یازدهمین سالگرد شهادت احمد شاه مسعود رخ داده است.

بر اساس گفته شاهدان عینی، در ابتدا درگیری میان چند عزادار و برادران هزاره بوده است.

برخی از مردمی که دست به تظاهرات زده بودند، شیشه موترها را نیز شکستند.

در همین حال، شاهدان عینی، مدعی اند که ۳ فرد ملکی در درگیری با پولیس کشته و ۳ نفر دیگر زخمی شده اند. مسئولین شفاخانه وطن در غرب کابل به خبرنگار جمهور می گویند که پنج نفر از مجروحین حادثه به این شفاخانه منتقل شده اند که یک تن از زخمی ها جان خود را از دست داده و حال یک نفر دیگر هم وخیم می باشد. تعدادی از زخمی ها نیز به شفاخانه ناصر خسرو در غرب کابل منتقل شده اند.

این در حالی است گفته می شود، برخی افراد غیر مسئول نیز برای دامن زدن به این درگیری، سلاح در اختیار مردم قرار داده اند.

در حال حاضر پولیس در صدد آرام ساختن مردم بوده و مسیر کوته سنگی- پل سوخته باز شده است.

طالبان یک ملکی را در دایکندی زنده آتش زدند


هژدهم سنبله 1391 خورشیدی


باشنده گان ولایت دایکندی می گویند که طالبان مسلح یک فرد ملکی را در ولسوالی کجران آتش زدند.

گل احمد اتمر، یکی از باشنده گان ولسوالی کجران ولایت دایکندی به خبرگزاری بست باستان گفت که گروه طالبان یکی از باشنده گان ولایت دایکندی را پس از بریدن دست ها و پاهایش آتش زدند.

به گفتۀ آقای اتمر، عصر روز پنج شنبه زمانی این فرد ملکی می خواست از مرکز ولایت ارزگان به خانه اش در ولسوالی کجران ولایت دایکندی برود، در مسیر راه کجران سوختاده شده است.

محمد علم باشندۀ دیگر ولسوالی کجران نیز به آتش کشیده شدن برادرش را تأیید نموده، گفت: «برادرم گاه گاهی در مسیر ارزگان و دایکندی موتروانی می کرد، این بار وقتی خانه می آمد توسط طالبان با موترش یک جا آتش زده شده است.»

محمد علم، از دولت خواست که قاتلین برادرش را دستگیر و محاکمه نماید.

او افزود که با افزایش فعالیت گروه طالبان در مناطق همجواری ارزگان و دایکندی، شمار موارد کشته شدن افراد ملکی نیز در این مسیر بیشتر شده است.

قربانعلی ارزگانی والی دایکندی با تأیید زنده سوختاندن یک فرد ملکی، توسط طالبان گفت که این اولین بار است که یک فرد ملکی زنده توسط طالبان آتش زده شده است.

والی دایکندی با اظهار نگرانی از افزایش فعالیت های گروه طالبان در شماری از مناطق این ولایت که در همجواری با سایر ولایات قرار دارد، افزود که شماری مسافرین ولایت دایکندی در تمام راه های ارتباطی این ولایت در مسیر ارزگان، کندهار، هلمند، غزنی و کابل توسط افراد مسلح، گروه طالبان سربریده، اختطاف و زخمی گردیدند.

آقای ارزگانی علاوه کرد که پس از خروج نیروهای خاص امریکایی از ولایت ارزگان راه های مواصلاتی ولسوالی کجران با ارزگان کاملأ به روی مردم ملکی مسدود شده است.

به گفتۀ وی، ناامن بودن راه های ارتباطی ولایت دایکندی با دیگر ولایت های کشور و کابل در مسیر دره میدان و غوربند سبب افزایش نرخ مواد غذایی نیز شده است، چنانچه این مسیر به روی مردم باز نشود و امنیت آن تأمین نگردد ممکن فاجعۀ انسانی رخ دهد. 

ولایت دایکندی یکی از ولایت های نو تأسیس است که در مرکز کشور موقعیت دارد، خراب بودن سرک های این ولایت و عدم امنیت راه های ارتباطی دایکندی با دیگر ولایت های کشور باعث افزایش تلفات انسانی در این ولایت شده است.

تیمور آهنگر – بامیان