Added by Admin on June 29, 2012.
The sectarian war in Balochistan is getting uglier by the day as Sunni militants continue to devise new strategies every day to target members of the Shia community. Despite religious motivations, these attacks frequently lead to attacks on Hazara ethnic community. Thus, one should not mince words in describing this phenomenon as a blatant religious and ethnic cleansing. The tragic killing of another 13 innocent Shia pilgrims on Thursday in Hazar Ganji once again increases the fears of the Shia community and calls into question the government’s commitment to protect the people’s lives....Continue Reading....
دھماکے سے بس مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زائرین کی بس پر ہونے والے بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی ہے۔
شیعہ زائرین پر اس حملے کے خلاف جمعہ کو کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ایران جانے والی زائرین کی بس کو ہزار گنجی میں جمعرات کی شام اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ پولیس کی نگرانی میں تفتان کے لیے روانہ ہوئی۔
ابتدائی طو پر اس واقعے میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم مقامی حکام کے مطابق جمعرات کو رات گئے تک اس بس کے گیارہ مسافر اور حفاظتی گاڑی میں سوار دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
اس دھماکے میں بائیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں نے زخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی ہے جنہیں علاج کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بس میں ساٹھ کے قریب مسافر سوار تھے جن میں سے اکثر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔
کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کی رات خود کو کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کا نمائندہ بتانے والے ابوبکر نامی شخص نے مقامی اخبارات کے دفاتر میں فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
بس کے مسافروں میں سے اکثر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا
پولیس اور فرنٹیئرکور کے اہلکاروں نے دھماکے کے فوراً بعد جائے وقوع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی تھیں تاہم سکیورٹی حکام کی جانب سے تاحال دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
ادھر شیعہ تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ان تنظیموں کی جانب سے جمعہ کو کوئٹہ میں ہڑتال کی کال بھی دی گئی ہے۔
ہڑتال کی اپیل پر جمعہ کو کوئٹہ میں دکانیں بند ہیں اور نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔ شیعہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس قسم کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
بلوچستان میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً صوبے میں مقیم ہزارہ برادری خاصے عرصے سے فرقہ وارانہ دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہے اور ان واقعات میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں
