Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Thursday, October 13, 2011

ہزارہ افراد قتل:صدر آصف علی زرداری نے تحقیقات تیز کرنے کا حکم

آخری وقت اشاعت: جمعـء 14 اکتوبر 2011 ,‭ 20:01 GMT 01:01 PST
صدر نے دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے صوبہ بلوچستان میں تشدد کا شکار ہونے والے ہزارہ قبیلے کے افراد کے قتل کی تحقیقات تیز کرنے اور ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

صدر زرداری نے وزیرِداخلہ رحمٰن ملک کو یہ ہدایت ہزارہ قبیلے کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران دی۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق ہزارہ قبیلے کے نمائندہ وفد نے رکنِ قومی اسمبلی ناصر علی کی سربراہی میں جمعرات کے روز ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

صدر نے اس ملاقات میں وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک سے کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے رابطہ کر کے ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور ہزار کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

صدر کا کہنا تھا کہا کہ کسی بھی دوسرے پاکستانی کی طرح ہزارہ کمیونٹی کے ارکان بھی محب وطن ہیں اور ان کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

"رحمان ملک صوبائی حکومت سے رابطہ کر کے ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور ہزار کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں "
صدر آصف علی زرراری
صدر نے دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں ہزارہ قبائل سے تعلق رکھنے والے شیعہ زائرین کو لے جانے والی بسوں پر دو حملوں میں مجموعی طور چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

BBC URDU

No comments:

Post a Comment