Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Monday, December 31, 2012

’پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی نفرت انگیز‘


آخری وقت اشاعت: پير 31 دسمبر 2012 



’یہ اندوہناک دہشت گردی کے واقعات کسی کسی مقصد یا محرومی کی توجیہہ نہیں بن سکتے‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ’نفرت انگیز‘ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے بیان میں اتوار کے روز پشاور کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے گئے اکیس نیم فوجی اہلکاروں اور صوبہ بلوچستان کے علاقے میں مستونگ میں انیس شیعہ زائرین کی ہلاکت کی مذمت کی۔

بان کی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے خاص طور پر پاکستان میں کلِکاقلیتوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

ترجمان کے مطابق انہوں نے پشاور کے نزدیک سے اغوا کیے گئےکلِکاکیس نیم فوجی اہلکاروں کی شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’یہ اندوہناک دہشت گردی کے واقعات کسی کسی مقصد یا محرومی کی توجیح نہیں بن سکتے۔ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حکومتِ پاکستان اور عوام کو یقین دلایا کہ عالمی تنظیم ان کے ساتھ ہے اور ’اداروں اور آزادی کو دہشت گردی کے نرغے سے بچانے کی تمام کاوشوں کی حمایت کرتی ہے‘۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پشاور کے نزدیک ماشو خیل میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے جانے والے اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے اتوار کے روز گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق پشاور سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب نیم قبائلی علاقے حسن خیل سے اکیس لیویز اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں۔

تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نےایک نامعلوم مقام سے فون کر کے ان اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا کہ یہ مولانا گل نصیب، عبدالحمید، فیصل اور پیر صاحب کی مبینہ طور پر زیر حراست ہلاکت کا بدلہ تھا۔

اتوار ہی کے روز صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شیعہ زائرین کی بسوں پر کار بم حملے کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے تھے۔

صوبہ بلوچستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

No comments:

Post a Comment