Azaranica is a non-biased news aggregator on Hazaras and Hazarajat...The main aim is to promote understanding and respect for cultural identities by highlighting the realities they are facing on daily basis...Hazaras have been the victim of active persecution and discrimination and one of the reasons among many has been the lack of information, awareness and disinformation...... To further awareness against violence, disinformation and discrimination, we have launched a sister Blog for youths and youths are encouraged to share their stories and opinions; Young Pens

Thursday, June 28, 2012

کوئٹہ: زائرین کی بس میں دھماکہ، چھ ہلاک


آخری وقت اشاعت: جمعرات 28 جون 2012 ,‭ 16:07 GMT 21:07 PST



پاکستان کےصوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ایران جانے والی زائرین کی بس میں دھماکے سے چھ افراد ہلاک اور پندرہ مسافر زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں جمعرات کی شام ایران جانے والی زائرین کی بس کے قریب اس وقت دھماکہ ہوا جب بس پولیس کی نگرانی میں ہزارگنجی سے تفتان کے لیے روانہ ہوئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہلا ک اور پندرہ زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق بس کو پہاڑی علاقے سے راکٹ کے ذریعے نشانہ بنایاگیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد بس الٹ گئی۔

پولیس کے مطابق بس میں ساٹھ کے قریب مسافر سوار تھے جن میں سے اکثر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دھماکے کے بعد زخمیوں کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس اور سی ایم ایچ ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

دھماکے کے بعد پولیس اور فرنٹیئرکور کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لیکر تحقیقات شروع کردیں۔

دوسری جانب بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے سبی ریلوے سٹیشن پر کل رات ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ مزاحمت کاروں نے سیکورٹی فورسز کی ایک بوگی کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ کل رات سبی ریلوے سٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر دو پر قائم چائے کی دکان پر دھماکہ ہواتھا جس میں چھ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کاتعلق پنجاب اورتین کا تعلق سبی سے تھا جبکہ ایک بچے سمیت دوافراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔

No comments:

Post a Comment